ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / اے ایس سی آئی نے ہربل دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات کے بارے میں732شکایات وصول کی ہیں

اے ایس سی آئی نے ہربل دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات کے بارے میں732شکایات وصول کی ہیں

Wed, 08 Aug 2018 00:55:27    S.O. News Service

نئی دہلی:7/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آیوش کی وزارت کوآیوش دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات کے بارے میں تحریری اور آن لائن شکایات برابر مل رہی ہیں ۔ اس طرح کی شکایات کا اندراج جی اے ایم اے یعنی گمراہ کن اشتہارات کے خلاف شکایات کے پورٹل میں بھی درج کی جاتی ہیں ۔ اس پورٹل کا انتظام صارفین کا محکمہ کرتا ہے۔ اپریل 2015 سے مارچ 2018 کے دوران آیوش اور ہربل دواؤں مصنوعات کے بارے میں اشتہارات کی تقریباً 809 شکایات وصول کی گئی ہیں۔ ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرس کونسل آف انڈیا (اے ایس سی آئی) جس کے ساتھ وزارت نے پرنٹ اور ٹی وی میڈیا پر آیوش کے اشتہارات کے جائزے کیلئے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کئے ہیں۔ 20 جنوری 2017 سے 19 جنوری 2018 تک 732 شکایتیں کی خبر دی ہے۔ چھ ریاستوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے جن میں دہلی ، مہاراشٹر، گجرات ، کیرلا، کرناٹک اور چنڈی گڑھ شامل ہیں ۔ پچھلے تین برسوں کے دوران گمراہ کن اشتہارات کے بارے میں 573 شکایتوں کی اطلاع دی ہے ۔ ڈرگس اور کوسمیٹکس کے ضابطوں مجریہ 1945 کی دفعہ 158-بی کے ضابطوں میں بعض زمروں کی آیوروید ،سدھا اور یونانی دوائیں تیار کرنے والوں کو لائسنس دینے کے لئے دواؤں کے تحفظ اور ان کے با اثر ہونے کا ثبوت دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ ہر بل دواؤں اور کلینیکل جانچ جیسی اصلاحات ، ادویات اور کوسمیٹکس سے متعلق قانون 1940 میں درج نہیں ہیں۔ لیکن وزارت کو بعض شکایات ملی ہیں جس میں دواؤں کے ان پہلوؤں کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ آیوش کی وزارت کو ہر بل دوائیں مصنوعات کے استعمال کے بعد موت کے دو واقعات کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ ان میں سے ایک واقعہ تمل ناڈو میں اور دوسرا کیرلا میں ہوا۔آیوش کی مصنوعات کے بارے میں گمراہ کن اشتہارات اور دعوؤں کی تصدیق کی غرض سے مرکزی حکومت نے درج ذیل اقدامات کئے ۔ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈرگس اینڈ میجک ریمیڈیز (قابل اعتراض اشتہارات) کے قانون 1954 کی دفعہ 8 (1) کے تحت گزیٹیڈ افسران کا تقرر کریں جو دواسازی کے کسی بھی مرکز میں داخل ہو جائیں وہاں کا معائنہ کریں اور ایسا کوئی بھی ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیں جو قانون کے ضابطوں کے خلاف ہو۔معلوم ہوا ہے کہ 22 ریاستوں میں اس مقصد کے لئے تقریباً 621 گزیٹیڈ افسران مقررکئے گئے ہیں ۔آیورویدک ، سدھا، یونانی اور ہومیوپیتھک دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات کے بارے میں شکایات کو کارروائی کے لئے ریاستی لائسنسنگ اتھارٹی کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ ان شکایات پر ادویات ، کوسمیٹکس کے قانون 1940 کے تحت اور اس کے بعد بننے والے ضابطوں کے تحت نیز ڈرگس اینڈ میجک ریمیڈیز (قابل اعتراض اشتہارات ) کے قانون 1954 اور اس کے بعد بننے والے ضابطوں کے تحت کارروائی کی جا سکے ۔ جی اے ایم اے پورٹل کے ذریعے حاصل ہونے والی 809 شکایات میں سے تقریباً 274 شکایات کو حل کر دیا گیا ہے اور 585 شکایات مناسب کارروائی کے لئے ریاستی حکام کو بھیج دی گئی ہیں۔ ریاستوں نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے اس کے بارے میں مطلع بھی کر دیا ہے ۔آیوش کی وزارت نے ایڈورڈائزنگ اسٹینڈرس کونسل آف انڈیا (اے ایس سی آےآئی ) کے ساتھ آیوش کی دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات کا جائزہ لینے کے لئے جو پرنٹ اور ٹی وی میڈیا پر ظاہر ہوئے ہیں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں تاکہ ضروری کارروائی کے لئے ان اشتہارات کو ریاستی ریگولیٹری اتھارٹی کے نوٹس میں لایا جائے۔ اے ایس سی آئی نے خبر دی ہے کہ 233 گمراہ کن اشتہارات کو اشتہار دینے والوں نے یا تو ٹھیک کر دیا یا واپس لے لیا جبکہ تقریباً 456 شکایات کو موضوع کارروائی کے لئے ریاستی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔آیوش کی وزارت کی درخواست پر اطلاعات ونشریات کی وزارت نے تمام میڈیا چینلوں کو یہ ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آیوش کی صحت سے متعلق مصنوعات اور ادویات کا اشتہار دیتے وقت ادویات اور کوسمیٹکس کے قانون 140 نیز میجک ریمیڈیز (قابل اعتراض اشتہارات) کے قانون 1954 کے تحت ضابطوں کی پوری پوری پابندی کی جائے۔ ٹی وی چینلوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آیوش کی صرف ان مصنوعات کا اشتہار دیں جن کے پاس ادویات بنانے کا جائز لائسنس موجود ہو۔آیوش کے اشتہارات کے جائزے کے ضابطے کو مرکزی اسکیم میں رکھا گیا ہے جو آیورویدک ، سدھا،یونانی اور ہومیوپیتھک دواؤں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی ہے ۔آیوش کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)جناب شری پد یسونائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں مندرجہ بالا اطلاع فراہم کی ہے۔


Share: